وہ جو رُکا ہوا ہے

بلاگ اے

یہ تو کب سے چل رہا ہے، اور کب سے رکا ہوا ہے۔

وہی مصروف دن، مضطرب شامیں۔

سُنی سنائی باتیں، معلوم ملاقاتیں۔

کبھی یہی حال لیے چل دیے، خود کو کچھ پل دیے۔

پھر وہی برقی قمقمے، دیکھنے دکھانے کی شمعیں۔

کالک من کو اور ملی، نسیں تن کی اور تنی۔

کر لی تھوڑی بہت التجا، پھر یہ جا وہ جا۔

ہاں یہ سب تو چل رہا ہے، پھر کیا ہے جو رُکا ہوا ہے؟

View original post

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s